علم وبصیرت کا تعارف

حصول علم کے مختلف ذرائع ہیں،لیکن ان میں سے کتب بینی اور مطالعہ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اسلام میں مطالعہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ جل شانہ نے اپنے پیغمبرﷺ کے واسطے سے انسانیت کی طرف جو پہلی وحی بھیجی اس میں دو مرتبہ پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو:

اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (۱) خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ (۲) اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ (۳) الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (۴) عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ (۵)

’’پڑھو اپنے پروردگار کا نام لے کر جس نے سب کچھ پیدا کیا۔ اُس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا ہے۔ پڑھو، اور تمہارا پروردگار سب سے زیادہ کرم والا ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی۔ انسان کو اس بات کی تعلیم دی جو وہ نہیں جانتا تھا۔‘‘
(سورۃ علق: ۱۔۵)

دور حاضر میں روزگار کی دوڑ دھوپ بڑھنے سے لوگوں کی مصروفیت بھی بڑھ گئی ہے۔ روزگار کے حصول کے لیے عصری تعلیم کا اہتمام تو کیا جاتا ہے، لیکن دینی تعلیم کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی جاتی ، جس کی وجہ سے اکثر لوگ دین کی روشنی میں زندگی گزارنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں تعلیم یافتہ طبقے کو دین کے ساتھ جوڑنے کا بہترین طریقہ ان کو دینی لٹریچر فراہم کرنا ہے۔

اس مقصد کے حصول کے لیے ہر دور میں علماء نے عوام کے لیے رہنما دینی کتابیں لکھیں ہیں، لیکن ان میں سے اکثر کتابیں بہت زیادہ تفصیلی ہیں، جس سے مصروف زندگی گزارنے والے افراد کے لیے استفادہ عام طور پر مشکل ہوجاتا ہے۔ نیز پہلے سے لکھی ہوئی دینی کتابوں میں موضوع سے متعلق تمام احکام یکجا جمع نہیں، اسی لیے لوگوں کو دین کے ہر شعبے میں آسان اسلوب میں مکمل دینی رہنمائی کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اسی ضرورت کے تحت ’’علم وبصیرت‘‘کے نام سے ایک دینی اور اشاعتی ادارہ وجود میں لایا گیا ہے، جس میں دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق آسان اسلوب میں زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق دینی رہنمائی فراہم کرنے والی کتابیں اور مختصر رسائل ترتیب دیے جارہے ہیں۔ ادارہ افادہ ٔعام کے لیے ترتیب شدہ کتب اور رسائل کو سافٹ شکل میں آن لائن فراہم کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے یہ ویب سائٹ ترتیب دی گئی ہے۔

ضرورت و اہمیت کے پیش نظر اور افادہ عام کے لیے ادارہ علم وبصیرت کتب ورسائل کی اشاعت کے بعد مختلف دینی موضوعات پر آڈیوز اور ویڈیوز تیار کر رہا ہے، جو آپ ہمارے ساؤنڈکلاؤڈاور یوٹیوب چینل پر ملاحظہ فرماسکتے ہیں۔